موجودہ عالمی منظر نامہ ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جہاں مفادات کی جنگ نے انسانیت اور عالمی امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اگر ہم آج کے حالات کا گہرا مشاہدہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکہ، ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اپنے حق میں ترتیب دینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس تمام تر کھینچا تانی کا مرکز ”جزیرہ خارگ“ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جو ایران کی معیشت کی شہ رگ اور خلیج فارس میں تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
امریکہ کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ وہ دنیا کے توانائی کے وسائل پر مکمل گرفت حاصل کر لے تاکہ وہ عالمی معیشت کو اپنی مرضی کے مطابق چلا سکے۔ جزیرہ خارگ پر قبضے یا اسے مفلوج کرنے کی تگ و دو دراصل ایک بڑے عالمی منصوبے کا حصہ ہے جس کا اصل ہدف چین کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت کو لگام ڈالنا ہے۔ جس طرح ماضی میں ونیزویلا کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنا کر وہاں کی معیشت کو اپاہج کر دیا گیا، بالکل وہی فارمولا اب ایران اور خلیجی خطے پر آزمایا جا رہا ہے۔ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس نے تیل کی سپلائی لائن پر کنٹرول حاصل کر لیا تو وہ چین جیسے معاشی دیو کو توانائی کے بحران میں مبتلا کر کے اسے عالمی دوڑ سے باہر کر سکتا ہے۔
اس جیو پولیٹیکل بساط پر اسرائیل اور ایران کی کشیدگی کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ عرب دنیا اور ایران کو ایک دائمی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ مسلم ممالک مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر آپس میں دست و گریبان رہیں، تاکہ وہ اور اسرائیل دور بیٹھ کر اس تباہی کا تماشا دیکھ سکیں اور اپنے سٹرٹیجک اہداف حاصل کر سکیں۔ ایران پر حملے کے پروگرام میں حالیہ دس دن کی تاخیر بھی کسی رحم دلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سفارتی چال ہے تاکہ اس دوران خطے میں صف بندیاں مکمل کی جا سکیں اور مسلم ممالک کے درمیان دراڑیں مزید گہری کی جائیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے خلاف ایک فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کریں، جس کا نقصان صرف اور صرف امتِ مسلمہ کو ہوگا جبکہ فائدہ صیہونی ریاست کو پہنچے گا۔
ان سنگین حالات میں پاکستان کا کردار ایک مسیحا کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے کمالِ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھانپ لیا ہے کہ اگر یہ آگ لگی تو اس کی تپش سے پورا خطہ خاکستر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر کھڑی ہو کر عالمی سطح پر امن کی سفیر بنی ہوئی ہے۔ اسلام آباد نے بڑی خاموشی مگر انتہائی موثر انداز میں عرب ممالک اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے عرب بھائیوں کو اس بات پر قائل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی خود ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہو گی۔پاکستان کی اس متحرک سفارت کاری نے امریکی منصوبوں کو دھچکا پہنچایا ہے، کیونکہ پاکستان نے مسلم بلاک کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دی ہیں۔ پاکستان کا یہ ”ثالثی کردار“ محض زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ ٹھوس عسکری اور سیاسی تجربہ ہے جو پاکستان نے دہائیوں کی جنگ و جدل کے بعد حاصل کیا ہے۔پاکستان کی اس بے لوث خدمت اور امن پسندی کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
دنیا اب تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو صرف اپنے مفاد کی بات نہیں کرتا بلکہ پورے خطے اور امتِ مسلمہ کے استحکام کا ضامن بن کر اُبھرا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا جو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے ڈیزائن کی گئی ہو۔ اسلام آباد کی کوششوں سے ہی آج تہران اور ریاض کے درمیان برف پگھلنے کی اُمیدیں پیدا ہوئی ہیں،جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ پاکستان کا پیغام دو ٹوک ہے کہ خطے کے مسائل کا حل میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ہتھیار اٹھا کر۔
آج پاکستان کا عالمی وقار جس بلندی پر ہے، اس کی بڑی وجہ ملک کے اندرونی اداروں کا ایک مرکز پر جمع ہونا ہے۔ جب عسکری بصیرت اور سیاسی تدبر ایک ساتھ مل جائیں تو ریاست ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سیاست میں اب محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال کھلاڑی ہے جو عالمی امن کے قیام کے لئے اہم فیصلے کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو داخلی سطح پر بھی سپورٹ کیا جائے تاکہ ہم ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر دنیا کی قیادت کر سکیں۔
اگر پاکستان کا یہ امن مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف امتِ مسلمہ کی بڑی جیت ہوگی بلکہ عالمی امن کی تاریخ میں پاکستان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مسلم ممالک بصیرت کا مظاہرہ کریں گے اور دشمن کی چالوں میں آنے کے بجائے پاکستان کے ہاتھ مضبوط کریں گے تاکہ اس خطے کو بارود کی بو سے نجات مل سکے اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو۔
٭٭بشکریہ روزنامہ پاکستان ٭٭

کوئی تبصرے نہیں