اچھے وقتوں کی بات ہے ملک میں گورننس کا ایک ماڈل ہوا کرتا تھا، اس ماڈل میں صحت مند مقابلہ بھی تھا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مہم جوئی بھی جس کا فائدہ بالآخر عوام کو ہوتا تھا، بلاشبہ اس میں کچھ خرابیاں بھی تھیں تاہم اُس میں عوام کے لئے ریلیف کے کئی اسباب مہیا تھے۔ میں بات کر رہا ہوں،اُس وقت کی جب ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں میں بااثر ہوا کرتے تھے،افسر من مانی کرنے سے پہلے سوچتے تھے کہ کہیں علاقے کا ایم این اے یا ایم پی اے ناراض نہ ہو جائے، عوام کو اُس میں یہ سہولت تھی کہ اُن کی بات کسی نہ کسی جگہ سنی جاتی تھی، وہ بے دھڑک اپنے نمائندے کے ڈیرے پر پہنچ جاتے تھے، اپنا مسئلہ بیان کرتے اور چٹھی یا فون کے ذریعے متعلقہ افسر تک رسائی حاصل کر لیتے تھے۔کام ہو جاتا تو خوش ہو جاتے نہ ہوتا تو پھر ڈیرے پر پہنچ جاتے، کئی ارکان اسمبلی تو ایسے بھی گذرے ہیں جو اپنے حلقے کے کسی شخص کا مسئلہ لے کر خود افسر کے پاس پہنچ جاتے۔
ملتان میں حاجی بوٹا اور مظفر گڑھ میں جمشید دستی کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے۔حاجی محمد بوٹا اَن پڑھ تھے مگر اُن کی سیاسی بصیرت کمال تھی۔نواز شریف کے ساتھ اُن کے قریبی مراسم تھے، ملتان آتے تو حاجی محمد بوٹا کو اپنے ساتھ رکھتے،اُن کے حلقے کا ہر ووٹر رات کو چین کی نیند سوتا تھا کہ مسئلہ ہو گا تو کل حاجی محمد بوٹا کے پاس چلے جائیں گے،ایسے عامی لیڈر ہر جگہ موجود ہوتے تھے اور ایک نظام چل رہا تھا پھر رفتہ رفتہ ایک خاص منصوبہ بندی سے یہ پروپیگنڈہ شروع ہوا کہ سرکاری دفتروں میں سیاسی مداخلت بڑھ گئی،افسروں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا، حالانکہ افسر کام کرتے ہی کہاں ہیں، وہ کام کرتے تو عوام اس دفتری نظام سے اس طرح بے زار ہوتے۔مقصد بیورو کریسی کا یہ تھا کہ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ افسر یار پھرے۔ٹھیک ہے سیاسی مداخلت کی وجہ سے بعض نمائندے اپنے ذاتی مقاصد بھی پورے کر لیتے تھے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سب غلط کام کرتے تھے یا بیورو کریسی کو چلنے نہیں دیتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی کے کاریگروں نے آنے والے وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ سب اختیارات اپنے پاس رکھیں اور افسروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیں، کسی کا تبادلہ پوسٹنگ یا اُس کے خلاف کوئی کارروائی عوامی نمائندوں کی شکایت پر نہ کریں، کچھ عرصہ تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی مزاحمت کرتے رہے۔
استحقاق کمیٹیوں یا وزیراعلیٰ سے ملاقات میں اپنے حلقے میں تعینات افسروں کے عوام کے ساتھ برے رویے کی شکایت کرنے کا رویہ اپنائے رکھا مگر رفتہ رفتہ یہ بات آشکار ہوتی چلی گئی کہ افسروں کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے۔ چیف سیکرٹری کی بات زیادہ سنی جا رہی ہے اور اُس کے نتیجے میں دیگر افسروں کے رویے بھی ارکان اسمبلی کی اہمیت کو تسلیم نہیں کر رہے۔غیر جانبدار حلقوں نے اس کا سبب یہ بھی بتایا کہ ارکان اسمبلی کا حق ِ نمائندگی مشکوک ہے، وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آتے،اس لئے اُن میں ماضی بعید کے ارکان اسمبلی سیاسی جرأت و بصیرت نہیں، بہرحال جو کچھ بھی ہوا، اس میں نقصان عوام کا ہوا ہے اُن کے لئے اس نظام کے تحت زندہ رہنے کے لئے درمیان کی ایک سیڑھی ٹوٹ گئی ہے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ارکان اسمبلی کو سرکاری افسر کتنی واجبی سی اہمیت دینے لگے ہیں۔
میں جس حلقے میں رہتا ہوں وہ سید یوسف رضا گیلانی کا حلقہ ہے اس بار یہاں سے اُن کے بیٹے عبدالقادر گیلانی منتخب ہوئے، سید یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹے اس علاقے سے جڑے حلقوں سے ارکان اسمبلی بنے،اس علاقے میں سید یوسف رضا گیلانی اور گیلانی خاندان کے خلاف شدید عوامی مزاحمت نظر آتی ہے لوگ جلسوں میں اعلان کر رہے ہیں کہ گیلانی خاندان نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا اِس لئے ہم اس کی حمایت ترک کر رہے ہیں اور اب دیکھیں گے وہ اِن حلقوں سے کیسے جیتتے ہیں،اس پر ایک ستم ظریف نے یہ گرہ لگائی کہ گیلانی خاندان نے یہ چاروں سیٹیں ووٹوں سے جیتی ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ انتظامی و پولیس افسر تو اب مسلم لیگ(ن) کے ارکانِ اسمبلی کی بات نہیں سنتے اور یہ کہہ کر اُنہیں لاجواب کر دیتے ہیں کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہہ دیا ہے کہ ہر کام میرٹ پر کریں کوئی بھی ہو اُس کی ناجائز بات نہ مانیں۔ بات تو یہ بہت اچھی ہے مگر افسروں نے جائز ناجائز کے بھی تو اپنے پیمانے بنا رکھے ہیں اِس سیاسی مداخلت کو قبول نہ کرنے کی آڑ میں وہ بھی تو مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں۔
جہاں تک گیلانی خاندان کی بات ہے وہ پیپلزپارٹی میں ہے، پیپلز پارٹی وفاقی محکموں کی حد تک تو موثر ہے پنجاب میں اُن کے ارکان کٹی پتنگ کی طرح اِدھر اُدھر منڈلاتے رہتے ہیں۔ذاتی تعلقات کی وجہ سے کوئی کام کرا لیں تو کرا لیں وگرنہ اُن کی شنوائی نہیں ہوتی،اب ظاہر ہے ان حالات میں کہ تین قومی اور ایک صوبائی نشست کے ساتھ سینٹ کی چیئرمین شپ رکھنے والا خاندان اگر عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دیتا یا حل کرا نہیں سکتا تو پھر عوامی ردعمل تو سامنے آئے گا۔میں نے ایک ایسا ویڈیو کلپ دیکھا جو گیلانی خاندان کے پرانے حمایتی کارکنوں اور آج کے باغیوں کی گرم جوش تقریروں پر مبنی تھا، اس میں ایک مقرر کہہ رہا تھا، گیلانی صاحب آپ اپنے لئے آٹھ کروڑ کی گاڑی تو لے سکتے ہیں لیکن اپنے حلقے کے لئے فنڈز نہیں لے سکتے،اب ظاہر ہے گاڑی تو وفاقی حکومت نے لے دی ہے،فنڈز تو پنجاب حکومت سے حاصل کرنے ہیں، شاید وہاں تک گیلانی خاندان کی رسائی نہیں۔یہ خاص واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے جہاں بڑے بڑے ناموں والے خاندان اور اُن کے افراد اپنے حلقے کے لوگوں کو مایوس کر رہے ہیں،وہاں عام عوامی نمائندوں کا کیا حاصل ہو گا۔
سرکاری افسروں کی اہمیت سے انکار نہیں،انہوں نے حکومتی احکامات پر عملدرآمد بھی کرانا ہے اور عوام کو ریلیف بھی دینا ہے مگر یہ حیقت بھی اپنی جگہ بہت تلخ ہے کہ سرکاری افسروں اور عوام کے درمیان جو فاصلہ رہتا ہے، اُس کی وجہ سے عوام کو اُن تک پہنچنے کے لئے کوئی نہ کوئی سیڑھی درکار ہوتی ہے۔عوام ناجائزکام تو خیر کیسے کرا سکتے ہیں،اُن کے جائز چھوٹے چھوٹے کام بھی نہیں ہوتے۔ یہ افسروں نے جو کھلی کچہریوں کے ”ڈرامے“ شروع کئے ہوئے ہیں۔وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کے دفاتر بند ہیں، وگرنہ ایسے ڈراموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ پھر اس وباء کو سوشل میڈیا پر بھی لایا جاتا ہے اور وہ لوگ جو مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں،
اُن کی پیشی پر ویڈیو بنا کے سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی ہے ان افسروں کو کوئی سمجھائے کہ اپنی شو شا والی کارکردگی دکھانے کے لئے اس ویڈیو کا استعمال کس عدالت می جائز ہے جو وہ اپنی عدالت میں روا رکھتے ہیں۔ اب عوامی نمائندے بھی عوام کو دستیاب نہیں، گویا اس بے رحم دفتری نظام کے آگے جو شیلڈ تھی، وہ ہٹ گئی ہے اور عوام تن تنہا اس کا سامنا کر رہے ہیں۔
٭٭بشکریہ روزنامہ پاکستان ٭٭

کوئی تبصرے نہیں