Page Nav

HIDE

Pages

تازہ ترین:

latest

Ads Place

قومی ضرورت پہلے …… پھر برآمد؟ ناصرہ عتیق


 

اخبارات کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی ممالک کو وافر مقدار میں اشیاء خوردو نوش برآمد کرنے کی ہدایات کی ہیں انہوں نے اِس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کو بھی کہا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ وزیراعظم کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرعی اجناس گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ میں وسیع استعداد موجود ہے۔ عالمی سپلائی چینز متاثر  ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی استعداد میں اضافہ ہوا ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اشیاء خوردو نوش برآمد کرتے وقت اعلیٰ معیار یقینی بنایا جائے۔


اِن امور کا اظہار وزیراعظم کی طرف سے اُن کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں خطے میں بدلتے حالات کے پیش ِ نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمد کا جائزہ لیا گیا اور اشیاء خوردو نوش کے ذخائر پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اشیاء خوردو نوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں اس بات کا گمان گزرتا ہے کہ پاکستان میں زرعی اجناس سمیت بکرے اور گائے کا گوشت، برائلر مرغیاں، مچھلی اور ڈیری اشیاء کی اس قدر  فراونی ہے کہ اس ملک کے نادار،بے نوا، فاقہ کشوں کی ضرورت کو پوری ہونے کے بعد بھی ہر شے بھاری مقدار میں بچ جاتی ہے جبکہ حقائق اس کے قطعی طور پر برعکس ہیں، ایسی اشیاء کی برآمد کی استعداد قریباً قریباً  ہر چھوٹے بڑے امیر و غریب ملک میں ہوتی ہے، مگر ایسا کوئی ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوا کرتا  کہ اس ملک کے عوام کی عظیم اکثریت غربت وکسمپرسی کی اتھاہ گہرائیوں میں سسک سسک کر زندگی بسر کر رہی ہیں۔


ان کے بال بچے دو وقت کی روٹی کے لئے ترستے ہوں اور والدین کے پاس اُن کا پیٹ بھرنے کی خاطر ڈھنگ کا آٹا،چاول، سبزیاں، دالیں، نمک، مرچ،مصالحے خریدنے کے لئے ضرورت کے پیسے نہ ہوں ایسے خاندانوں کے بچوں کے لئے بکرے، گائے کا گوشت خواب بن کر رہ گئے ہوں،برائلر گوشت کی بھی استعداد نہ ہو، ملک میں وافر مقدار میں پیدا ہونے والے پھلوں کے ذائقے سے غربت نے محروم کر رکھا ہو، اگر ایسی تمام اشیاء کسی ملک میں وافر مقدار میں ہوں تو اُن کا ملک میں  بسنے والے صرف اشرافیہ ہی سے تعلق رکھنے والے گھرانوں سمیت دیگر تمام اہل وطن کی قوتِ خرید کے اندر  ہونا چاہئے چونکہ ملک کے کروڑوں افراد سے عبارت قلاش آبادی ایسی اشیاء کے خریدنے کی استعداد سے عاری کر دی گئی ہے اس لئے بچی کھچی اشیاء کو وافر مقدار میں شمار کرنا کروڑوں بے نوا محتاج خاندانوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔


ملک میں زرعی اجناس، دالیں، سبزیاں، پولٹری ہر قسم کا گوشت اور ڈیری وغیرہ اگر وافر مقدار میں ہیں تو اُن کی قیمتوں کو عام آدمی کی قوتِ خرید سے ناقابل یقین حد تک اونچا رکھنے میں کون سی مصلحت حکومت کے آڑے آتی ہے۔ ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی کہ ملک کے عوام ضروریاتِ زندگی کی ایسی تمام اشیاء جو انسانوں کے لئے جسم اور روح کی زندگی برقرار رکھنے کے لئے لازمی جزو کی حیثیت رکھتی ہوں، انہیں ان اشیاء سے محروم کر کے دیگر ممالک کو برآمد کر دیا جائے۔ یہ بات کس قدر افسوسناک، بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ اشیائے ضروریہ کا وافر ذخیرہ ملک میں موجود ہونے کے دعویدار اعلیٰ حکام سے اس قسم کی باز پرس کرنے کے بارے میں غور ہی نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی شے اتنی ہی وافر موجود ہے تو اسے عوام کی دسترس سے باہر رکھنے میں کون سی مصلحت کار فرما سمجھتے ہیں۔


اربابِ اقتدار کی خوشنودی کی خاطر عوام کو بھوک سے نڈھال رکھنے کا کوئی جواز کسی بھی انسانی معاشرے میں قابلِ معافی نہیں ہو سکتا۔ اگر واقعی اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس قسم کے فیصلوں کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے اور اجلاس میں پیش کیے گئے حقائق مبنی برحقیقت ہیں تو اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی برآمدی پالیسی مرتب کرنے کی بجائے ملک کروڑوں بے آسرا، مفلس لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے اجناس، اشیائے خوردو نوش سمیت دیگر ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں دیانتدارانہ بنیادوں پر صحیح معنوں میں کمی کر کے اس پر عملدرآمد بھی کرایا جاتا ہے،عوام کو ریلیف کے حوالے سے لفظوں سے بہلانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

٭٭بشکریہ روزنامہ پاکستان ٭٭

کوئی تبصرے نہیں

ads