Page Nav

HIDE

Pages

تازہ ترین:

latest

Ads Place

ساتوں برِاعظموں پر مشتمل منفرد عالمی سفرنامہ “سفر مسعود للہ”

 



ساتوں برِاعظموں پر مشتمل منفرد عالمی سفرنامہ “سفر مسعود للہ” شائع ہوگیا ہے۔


اردو ادب کے افق پر ایک منفرد اور تاریخی اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب پاکستانی نژاد کینیڈین ادیب اور سیاح مسعود اسلم للہ کا ساتوں برِاعظموں پر مشتمل عالمی سفرنامہ “سفر مسعود للہ” منظرِ عام پر آ گیا۔ اپنی نوعیت کے اس نادر اور منفرد سفرنامے کو علمی و ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ کتاب کی اشاعت معروف علمی و ادبی ادارے قلم فاؤنڈیشن لاہور کے زیرِ اہتمام عمل میں آئی، جبکہ ادارے کے سربراہ علامہ عبدالستار عاصم نے خصوصی دلچسپی اور نگرانی میں اس شاہکار کو شائع کروایا۔


“سفر مسعود للہ” محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ، تہذیب، فطرت اور انسانی رویّوں کا دلکش امتزاج ہے۔ مصنف نے ایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، شمالی و جنوبی امریکہ، افریقہ اور برف پوش و خاموش براعظم انٹارکٹیکا تک کے اپنے مشاہدات، تجربات اور جذبات کو نہایت دلنشین اور ادبی انداز میں قلم بند کیا ہے۔


کتاب میں صحراؤں کی وسعت، فلک بوس پہاڑوں کا جلال، سرسبز و شاداب وادیوں کا حسن، سمندروں کی ہیبت، مختلف قوموں، نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے رنگا رنگ مناظر اس انداز سے سموئے گئے ہیں کہ قاری ہر صفحے کے بعد اگلے منظر کا منتظر رہتا ہے۔ یہ سفرنامہ قاری کو دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک فکری اور روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔


مصنف نے جہاں دنیا کے عظیم عجائبات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہیں دنیا بھر کے معروف ڈزنی لینڈز اور امریکہ میں قائم واحد ڈزنی ورلڈ کی سیاحت بھی کی۔ ایک جانب افریقہ کے وسیع جنگلات میں نیچرل سفاری کے حیرت انگیز تجربات بیان کیے گئے ہیں تو دوسری جانب انسانوں سے خالی برِاعظم انٹارکٹیکا کی خاموش اور پُراسرار دنیا کو بھی نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


“سفر مسعود للہ” کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں روحانی اسفار کا حسین تذکرہ موجود ہے۔ درِ کعبہ، درِ علیؑ اور کربلا کے سفر کو مصنف نے عقیدت، محبت اور روحانی کیفیت کے ساتھ قلم بند کیا ہے، جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔


ادبی حلقوں کے مطابق یہ امر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ مسعود اسلم للہ نے کینسر جیسے جان لیوا مرض سے نبرد آزما ہونے کے باوجود اپنے عزم، حوصلے اور استقلال سے دنیا کے طول و عرض کا سفر مکمل کیا۔ مصنف اس کامیابی کا سہرا اپنے مرحوم والدین کی دعاؤں اور تربیت کو دیتے ہیں، جبکہ کتاب کا انتساب دنیا بھر میں جنگ، نفرت، ظلم اور بے بسی کا شکار انسانیت کے نام کیا گیا ہے۔


دنیا کے معروف سیاحوں مارکو پولو، ابن بطوطہ، جیمز کک اور مائیکل پالن سمیت کئی عالمی نام بھی انٹارکٹیکا تک رسائی حاصل نہ کر سکے، تاہم مسعود اسلم للہ نے ساتوں برِاعظموں کی سیاحت مکمل کر کے ایک منفرد اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ علمی و ادبی حلقے اسے اردو ادب کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کتاب کا مختلف عالمی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا جائے گا۔


یاد رہے کہ اس سے قبل مسعود اسلم للہ کی خودنوشت “آواز مسعود للہ” اردو قارئین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکی ہے، جسے معروف ادیبوں مستنصر حسین تارڑ اور مرحوم امجد اسلام امجد نے شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ کتاب کی تقریبِ رونمائی سابق وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیرِ اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کے ہاتھوں لاہور کے ایک تاریخی ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کتاب پر متعدد کالم تحریر کیے گئے جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ نے اسے اپنی تحقیقی مطالعات کا حصہ بھی بنایا۔


ادبی و فکری حلقوں کے مطابق “سفر مسعود للہ” اردو زبان میں عالمی سطح کا ایک ایسا منفرد سفرنامہ ہے جو قاری کو گھر بیٹھے دنیا کے ساتوں برِاعظموں کی تہذیب، تاریخ، ترقی، زوال، فطرت اور انسانی رویّوں کا بھرپور مشاہدہ کراتا ہے۔


“سفر مسعود للہ” کے حصول کے لیے القلم فاؤنڈیشن لاہور کے سربراہ علامہ عبدالستار عاصم سے فون نمبر 0300-0515101 یا ای میل qalamfoundation2@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

کوئی تبصرے نہیں

ads