Page Nav

HIDE

Pages

تازہ ترین:

latest

Ads Place

عجیب و امیر ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی


 

ہماری دنیا عجیب دنیا ہے۔ پہلے یہاں لوگ عجیب و غریب ہوتے تھے مگر انہیں پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ لکھاری عموما عجیب بھی ہوتے تھے اور غریب بھی لیکن انہیں اپنی تخلیقات پر ناز ہوتا تھا، انہیں شہرت کی پرواہ نہیں ہوتی تھی،وہ دوسروں کی اصلاح کو ہی اپنی فلاح سمجھتے تھے، آج کے دور میں بھی ان کے الفاظ امر ہیں،یہی لوگ انسانیت کا ثمر ہیں۔ وہ غریب تھے، عجیب تھے لیکن سچے طبیب تھے۔ اب صورتحال بدل رہی ہے، لوگ عجیب و غریب ہونا پسند نہیں کرتے، عجیب و امیر ہونے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ جو جنتا امیر ہے، اس کا رویہ اتنا ہی عجیب ہے اگرچہ ہر فرد کا اپنا نصیب ہے لیکن کردار کی دولت بے وقعت ہوتی جا رہی ہے۔ جانے کہاں گئے لوگ جو عجیب بھی تھے اور غریب بھی تھے،وہ کسی نظریے کے اسیر تھے۔ 


دنیا انہیں مرغوب نہ تھی۔ وہ کسی سے خود مرعوب نہ تھے۔ان کا چال چلن عجیب تھا، قابل اعتراض نہ تھا، کون تھا جس کو ا ن کے کردار پر ناز نہ تھا۔ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔ حب دنیا نے کتنے ہی لوگوں کے دلوں کی کایا پلٹ دی اور کایا بھی ایسی پلٹی کہ سب مایہ ہے، کہنے والے مایا کو بھول گئے اور سرمایہ کے پیچھے لگ گئے۔ جو لوگ خود سرمایہ تھے، وہی سرمایہ دار بننے کی لگن میں کردار بھی بھول گئے اور ماضی کی روایات بھی۔اچھائی قصہ کہانی ہو گئی۔ احمد اقبال نے اردو ادب کو چند لازوال کردار بخشے ہیں۔ کالے خان اور بھورے ماموں بھی دو ایسے ہی کردار ہیں، جن کی کہانیوں میں کبوتر معجون کایا کلپ کھا کر یوٹرن لے لیتے تھے۔


پوچھنا یہ تھا کہ کیا روپے سے بڑی بھی کوئی معجون کایا کلپ ہے؟ پہلے ہر کوئی اس معجون کا اسیر نہیں تھا، اب تو ہ کوئی اسی کا مجنو ں ہے۔ جدید دور میں نہ کوئی عجیب رہنا چاہتا ہے نہ غریب۔سرمائے کا سودا سر سر میں ایسا سمایا ہے کہ شخص شخص نے زندگی کو کاروبار بنایا ہے،ٹکا ٹکا کمایا ہے، بچایا ہے، ھامان کو شرمایا ہے، ھل من مزید کا نعرہ لگایا ہے۔محترمہ طیبہ سیف اپنے مضمون' زندگی کا دھندا،خیالات کا رندہ، موجودہ دور کا پھندا، نت نیا بندہ 'میں لکھتی ہیں:"قیامت کی نشانیاں ہیں کہ اصول پرست لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں، فضول لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، سرما یہ دار اور مادہ پرست لوگ چھا رہے ہیں، شرافت کو شرما رہے ہیں، آفت ڈھا رہے ہیں، لوگ اب دولت کمانے کے چکر میں کسی نا صح سے تو کیا اکثر اوقات خود سے بھی متفق نہیں ہوتے۔


 ' پل میں تولہ پل میں ماشا ' بات پرانی ہو گئی، عجب زندگانی ہو گئی۔ گرگٹ بیچارہ اپنی بے بسی پہ رو رہا ہے،پریشان ہے یہ دیکھ کر کہ انسان کیا کاٹ رہا ہے،کیا بو رہا ہے؟کسی کو بو کاٹا بو کاٹا کہنے کے لیے کیا کیا ہو رہا ہے۔ بندہ دنیا بھلے پا رہا ہے، آخرت کو رو رہا ہے۔اصول زندہ ہیں لیکن اصول پرست مرتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص دنیا کے حصول میں لگا ہوا ہے، زندگی سے اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔اپنے ہی نظریات کو دھول کر رہا ہے،دن بدن کم اپنا مول کر رہا ہے۔کسی شاعر نے کہا تھا کہ بندہ اگر جھوٹ بولے تو پھر جھوٹ پر قائم بھی رہے کیونکہ انسان کو صاحب کردار ہونا چاہیے۔ آج کل لوگ بولتے تو جھوٹ ہی ہیں لیکن جھوٹ پر قائم نہیں رہتے، سچ پھر بھی نہیں بولتے، جھوٹ کو جھوٹ سے ہی بدلتے ہیں۔ ڈنگ ٹپاؤ ہر انگ ٹپاؤ، ذرا نہ شرما ؤ، کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔جھنگ کے ایک شاعر نے ہماری سماجی بد عملی کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ موجودہ دور میں ہر کوئی اپنی ذات کے شور میں گم ہے، نہ کسی کو خبر ہے، نہ کسی کو پرواہ ہے کہ ارد گرد لوگوں پر کیا قیامت گزر رہی ہے؟ لوگ کیوں چیخ رہے ہیں؟ کیوں کراہ رہے ہیں؟ کیسے زندگی نباہ رہے ہیں؟ عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ 


فرعون اور ہٹلر تو مر چکے ہیں لیکن ہٹلری اور فرعونیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔گئے دنوں میں محبوب شوخ ہوتا تھا، پل پل رنگ بدلتا تھا،آج کل محبوب شوخ بھی ہے اور شوخا بھی جو رنگ بھی بدلتا ہے اور ڈھنگ بھی، جن کا نام محبوب نہیں، کام بھی محبوبوں والے نہیں، وہ بھی شوخے ہیں، رنگ بھی بدل رہے ہیں اور ڈھنگ بھی اور اپنا اپنا سنگ بھی۔ کوئی کسی کے سنگ چلنے کے لیے تیار نہیں بھلے کوئی سمندر ہے یا ساحلوں کی ہو ا۔رنگ، ڈھنگ اور انگ بدل رہے ہیں لیکن امنگ ہر کسی کی ایک ہے،امیر ہونا اور پھر عجیب ہونا۔ کہتے ہیں کہ دوست اگر فیل ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے لیکن دوست اگر اول آئے تو صدمہ لاحق ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دوست اگر بدل جائے، 'چبل' ہو جائے تو دکھ سوا ہوتا ہے اور دکھ کے سوا بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔


ماضی کے شاعر کو گلہ تھا ' قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند '۔گئے دنوں میں کہا جاتا تھا:-" جعفر از بنگال و صادق از دکن ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن"۔ اب کوئی کسی کو کیا کہے، حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ سودو زیاں تو چلتا رہتا ہے لیکن اگر احساس زیاں جاتا رہے تو داستان تک نہیں ہوتی، داستانوں میں۔ پیسہ اچھی چیز ہے لیکن انسانی تاریخ شاہد ہے کہ انسان فقط مادی وجود نہیں۔ وقت کے قلندر نے کہا تھا کہ موت کا فرشتہ انسان کا بدن تو چھو سکتا ہے لیکن وجود کے مرکز تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان مسجود ملائک ہے۔زمین و آسماں، کل جہاں انسان کے لیے بنائے گئے ہیں۔ جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں ہے جہاں کے لیے۔ ہم کس لیے ہیں؟ انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت پاک پروردگار ہے،باقی سب بیکار ہے۔


٭٭بشکریہ روزنامہ پاکستان ٭٭


 

کوئی تبصرے نہیں

ads