Page Nav

HIDE

Pages

تازہ ترین:

latest

Ads Place

سائیکل چلائیں، پیسے بچائیں اور صحت بنائیں! اختر سردار چودھری

  صحت و ماحول دوست عوامی سواری یعنی سائیکل ایک ایسا آسان، سستا اور مؤثر ذریعہ سفر ہے جس کے فوائد بے شمار ہیں مگر ہم نے خود ہی اسے اپنی زندگی...

 



صحت و ماحول دوست عوامی سواری یعنی سائیکل ایک ایسا آسان، سستا اور مؤثر ذریعہ سفر ہے جس کے فوائد بے شمار ہیں مگر ہم نے خود ہی اسے اپنی زندگی سے نکال دیا ہے۔ کیا ہم واقعی اپنا، اپنی صحت کا اور اپنے ملک کا فائدہ چاہتے ہیں؟ اگر یہ سوال کسی سے بھی کیا جائے تو ہر شخص کا جواب ہاں میں ہوگا، لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو ہم پیچھے رہ جاتے ہیں اور یوں ثابت ہوتا ہے کہ ہم نہ اپنی صحت کے خیر خواہ ہیں، نہ اپنے وسائل کے اور نہ ہی اپنے ملک کے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم سائیکل کے کلچر کو دوبارہ اپنا لیں تو اس کے اتنے فوائد ہیں کہ انہیں ایک تحریر میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، مگر اس کے لیے اجتماعی سوچ اور حکومتی سرپرستی دونوں ضروری ہیں کیونکہ ایک یا دو افراد سے یہ تبدیلی ممکن نہیں۔




 اگر ہم صرف پانچ کلومیٹر تک کے مختصر فاصلے سائیکل پر طے کرنا شروع کر دیں، جیسے دفتر جانا، خریداری کرنا، بچوں کو سکول یا کالج چھوڑنا یا قریبی رشتہ داروں سے ملنا، تو اس سے نہ صرف ہماری اپنی صحت بہتر ہوگی بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور ہمارے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سائیکل چلانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور ہمیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ''جس نے کی شرم، پھوٹے اس کے کرم''۔ ہم نے خود ہی اس بہترین سواری کو ایک خاص طبقے تک محدود کر دیا ہے جبکہ یہ ہر انسان کے لیے یکساں مفید ہے۔ اگر ہم روزمرہ کے چھوٹے کاموں کے لیے سائیکل کا استعمال شروع کر دیں تو ایک خاموش مگر مثبت انقلاب آ سکتا ہے۔ آج کے دور میں جب پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، ایسے میں سائیکل ایک بہترین متبادل بن کر سامنے آتی ہے۔



 دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی طلب نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور پاکستان جیسے ممالک اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں ہر چند دن بعد پٹرول مہنگا ہونے سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ اگر ہم چھوٹے فاصلے کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کے بجائے سائیکل استعمال کریں تو نہ صرف پٹرول کی بچت ہوگی بلکہ گھریلو بجٹ بھی متوازن ہو سکے گا، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پٹرول کی بچت کریں اور سائیکل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔سائیکل چلانا ایک مکمل جسمانی ورزش ہے جس کے بے شمار طبی فوائد ہیں، اس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے، جسم میں موجود زائد چربی ختم ہوتی ہے، ہڈیاں مضبوط اور پٹھے لچکدار ہوتے ہیں، جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے اور تھکاوٹ کم ہوتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ، پریشانی اور ڈپریشن میں بھی نمایاں کمی آتی ہے اور انسان خود کو ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے، نظامِ ہضم بہتر ہوتا ہے اور مجموعی طور پر ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنانے میں مدد ملتی ہے۔


 ماہرین کے مطابق سائیکلنگ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اور اس سے انسان کی عمر میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ماحول دوست سواری بھی ہے کیونکہ اس سے کسی قسم کی آلودگی پیدا نہیں ہوتی، نہ دھواں نکلتا ہے اور نہ ہی فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہوتی ہیں، اس طرح یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔



بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ احساسِ کمتری کا شکار ہے جہاں ہم مغربی لباس اور زبان کو تو فخر سے اپناتے ہیں مگر ان کی اچھی عادات کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں سائیکل چلانا نہ صرف عام ہے بلکہ اسے فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چین میں بڑے بڑے سرکاری افسران سے لے کر عام مزدور تک سب سائیکل استعمال کرتے ہیں جبکہ یورپ کے کئی ممالک نے باقاعدہ حکومتی سطح پر سائیکل کلچر کو فروغ دیا ہے۔ 

ڈنمارک کے دارالحکومت میں سینکڑوں کلومیٹر طویل سائیکل ٹریک موجود ہیں اور ٹریفک سگنلز پر سائیکل سواروں کو ترجیح دی جاتی ہے، ہالینڈ کا شہر ایمسٹرڈم دنیا بھر میں سائیکلنگ کے لیے مشہور ہے جہاں روزانہ لاکھوں افراد سائیکل پر سفر کرتے ہیں، بیلجیم، فرانس، سویڈن، ناروے، جرمنی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک میں سائیکل کے لیے علیحدہ راستے، پارکنگ اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا استعمال کریں، ان ممالک کے پاس گاڑیوں کی کمی نہیں بلکہ وہ اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ صحت مند زندگی اور صاف ماحول کے لیے سائیکل بہترین ذریعہ ہے۔



اگر ہم بھی واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی اور سائیکل جیسے سادہ مگر مفید ذریعہ سفر کو اپنانا ہوگا، اس کے لیے حکومت کو بھی عملی اقدامات کرنے ہوں گے جیسے شہروں میں سائیکل کے لیے علیحدہ لینز بنانا، محفوظ پارکنگ کی سہولت دینا اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا تاکہ لوگ اس طرف راغب ہوں۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں، اس سے نہ صرف ہماری صحت بہتر ہوگی بلکہ معیشت مضبوط ہوگی، ماحول صاف ہوگا اور ٹریفک کے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم خود بھی قدم اٹھائیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہم ایک صحت مند، خوشحال اور باوقار معاشرے کی تشکیل کر سکیں جہاں سائیکل کو کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری کی علامت سمجھا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں

ads