فرشتہ خاندان کے لوگ خالق کائنات کے ساتھ بھی تعلق نبھانا چاہتے تھے۔ صوم و صلو کے پابند تھے ۔وہ جانتے تھے کہ خالق کی محبت کا راستہ مخلوق خدا کی خدمت کرنا ہے۔طارق نعیم فرشتہ صاحب کہنے لگے: -ہمارا آبائی علاقہ پسرور ہے ۔ہم راجپوت خاندان سے ہیں۔ پہلی بار دادا جی کے ایک کزن نے ان کو فرشتہ کہا ۔ میرے دادا جی اور میرے تمام تایا جی اپنی محنت کے حوالے سے جانے پہچانے اور مانے جاتے تھے ۔بزرگوں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ محنت میں عار نہیں سمجھتے تھے ۔دن رات محنت کرتے تھے۔ میرے والد صاحب چھ بھائی تھے۔ چھ کے چھ بھائیوں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں نام کمایا سب کو اجتماعی بھلائی کا کام کرنے کا شوق ہے۔فلاحی کام کرنے کا شوق، ہمارے خاندان میں ہر کسی کو نیکیاں کمانے کا جنون ہے۔ میرا بھی یہی شوق ہے۔ میں بھی اپنے دائرہ کار میں اپنی سی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔چند کوششیں لوگوں کی نظر میں ا جاتی ہیں ۔بہت سے کام میں انتہائی خاموشی سے کرتا ہوں۔ ذاتی طور پر مجھے تشہیر پسند نہیں۔ میں نمایاں ہونے سے گھبراتا ہوں، شرماتا ہوں۔ ساہیوال میں ہمارے بہت سے کام لوگوں کی نظروں کے سامنے ہیں۔
زیادہ کام ہم اللہ کی رضا کی خاطر چرچا کیے بغیر کرتے ہیں۔ عارف والا، پاک پتن دیگر کئی علاقے بھی ہمارے فلاحی نیٹ ورک کا حصہ ہیں، پسرور میں بھی لوگوں کا علاج معالجہ اور غربا کی مدد کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں ۔ضلع جھنگ میں میراکاروبار ہے۔ میں نے ابھی وہاں بھی لوگوں کی غربت دور کرنے کیلئے چند پروجیکٹ شروع کیے ہیں۔ مقامی ڈاکٹر حضرات کے ساتھ مل کر امراض چشم کے علاج کے لیے بھی چند بندوبست کیے ہیں۔ دیگر علاقوں میں بھی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔طلبہ کی مدد کروں ،غریب افراد کو گھر مہیا کروں ۔ مقصد حیات یہی ہے کہ اپنے تایا صاحبان، اپنی والدہ محترمہ، اپنے والد صاحب، اپنے دادا جی حضور اور دیگر تمام نیک دل افراد کے مشن کو آگے بڑھاں”۔طارق نعیم فرشتہ صاحب کو پاکستانی ہونے پر فخر ہے ۔
انہوں نے پر مسرت لہجے میں بتایا کہ دنیا بھر سے کاروباری اغراض و مقاصد کے لیے مال امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن میں نے ملک سے باہر کبھی کوئی جائیداد نہیں خریدی،کبھی کوئی کاروباری انویسٹمنٹ نہیں کی۔ میرا جو کچھ ہے اسی ملک میں ہے، اسی دھرتی میں ہے۔ مجھے اپنی دھرتی سے شاکی افراد کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ عجیب لوگ ہیں جو اپنے ملک میں ذرا سی محنت نہیں کرتے۔ باہر جا کر ہر طرح کا کام کر لیتے ہیں۔یہاں تھوڑی سی محنت کرنے کو بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔جیسے مواقع ہمارے ملک میں ہیں، دنیا کے کسی ملک میں ایسے مواقع میسر نہیں۔” صاحب کے ہر ہر لفظ سے ملک کیلئے محبت ٹپک رہی تھی ۔انہوں نے اپنی دولت اور ثروت کو اللہ تعالی کا احسان بتایا۔ ان کا خیال تھا ، یہ اللہ تعالی کا خصوصی کرم تھا کہ اللہ تعالی نے انہیں وافر رزق دیا تھا اور اپنے راستے میں رزق تقسیم کرنے کی توفیق بھی دی تھی۔ان کا خیال تھا ، پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ وہ اپنی کامیابی کا راز اپنے اساتذہ کی قدردانی اور اپنے ارد گرد کے نادار لوگوں سے اپنی خصوصی محبت کو سمجھتے تھے ۔وہ آج بھی اپنے اساتذہ سے رابطے میں رہتے تھے۔ اساتذہ کی زیارت کیلئے دور دراز کا سفر کرتے تھے۔ہزاروں گھرانوں کیلئے آسانیاں بانٹنے والی فرشتہ فیملی سے ساہیوال کے لوگ دلی محبت کرتے ہیں۔
ساہیوال کے لوگ اپنے فرشتوں سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہیں۔فرشتہ فیملی کا ساہیوال سے رشتہ تو قدیم ہے لیکن اب فرشتہ فیملی کے فلاحی خاندان میں دیگر بہت سارے علاقے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ جھنگ اور پسرور اس کی ایک مثال ہے۔طارق نعیم فرشتہ صاحب نے فرشتہ فانڈیشن کے قیام کا عزم ظاہرکیا۔انہوں نے راقم کو بتایا کہ فرشتہ فاونڈیشن جلد ہی اپنا کام شروع کرے گی۔ فانڈیشن غریب لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات کے علاوہ راشن کی فراہمی اور دیگر تمام معاملات میں معاونت فراہم کرے گی۔ طارق نعیم فرشتہ صاحب بے گھر لوگوں کو گھر بھی مہیا کر رہے ہیں،
سکول بھی بنا رہے ہیں اورہسپتال بھی۔جب تک ہمارے ہاں طارق نعیم فرشتہ صاحب جیسے افراد موجود ہیں۔ ہمارا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالی کوسخی لوگ پسند ہیں۔ صاحب باجماعت نماز کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔صوم و صلو کے پابند بزنس مین کو اپنی اصول پسندی پر فخر ہے۔ انہیں اپنے ملک پر فخر ہے۔وہ زندگی بھر اپنے حالات سے مطمئن رہے ہیں۔ وہ انتہائی فخریہ لہجے میں بتانے لگیکہ کبھی کسی سے حسد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اللہ نے جو نصیب لکھا ہے، بہترین لکھا ہے”۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دیار وطن میں رہنے والوں کو یہیں محنت کرنی چاہیے، کاروبار کرنا چاہیے، اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔جو لوگ وطن سے کماتے تو ہیں لیکن وطن اور اہل وطن کا قرض نہیں چکاتے وہ لوگ نادان ہیں اورقابل اصلاح ہیں۔ طارق نعیم فرشتہ صاحب سمجھتے ہیں ،ہر ذی شعور آدمی کو کسی نہ کسی مجبور کا سہارا بننا چاہیے ۔نیکی کی توفیق ہونا اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے۔ جو لوگ مٹی کی محبت میں وہ قرض چکاتے ہیں جو واجب بھی نہ تھے۔ وہی لوگ قوم کی آبرو کہلاتے ہیں۔ ترقی کا سفر انہی لوگوں کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں حکومت اور عوام کے باہمی تعاون کے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں ہو سکتی۔
اسلام فلاح کا دین ہے۔ صدقہ خیرات کا دین ہے۔ ہمارے لوگ دنیا بھر میں صدقہ خیرات سے اپنی وابستگی کے حوالے سے جانے پہچانے اور مانے جاتے ہیں ۔ہمارے لوگ اپنے منہ کا نوالہ دوسرے کو کھلاتے ہیں، ذرا نہ اتراتے ہیں، بالکل نہ جتلاتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ ہمارے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ ایک دوسرے پر جان نثار کرنے والے ،ایک دوسرے کی تکالیف میں مالی اور جانی قربانی دینے والے ہمارے لوگ قابل تحسین ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان لوگوں کا چہرہ دکھائیں جو عبدالستار ایدھی کی روایت کو لے کر چل رہے ہیں۔ جو اللہ تعالی سے تجارت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ بے شک صدقہ خیرات اللہ تعالی کے ساتھ تجارت ہے ۔منافع گارنٹی شدہ ہے اور اتنا ہے کہ دنیا ،جہان ختم ہو جائے ،خالق کا انعام ختم نہ ہو۔
طارق نعیم فرشتہ صاحب اور دیگر وہ تمام لوگ جن کا اپنی مٹی سے اور اپنے اہل وطن سے خلوص کا رشتہ ہے، ہمیں ایسے لوگوں کے لیے دست دعا بلند کرنا چاہیے۔ اپنے محسن کا احسان یاد رکھنا درینہ مشرقی روایت ہے ۔بے شک وہ لوگ سچے مومن ہیں جو اللہ تعالی کی راہ میں چھپ کر بھی صدقہ خیرات کرتے ہیں اور کھلے عام بھی۔ ایسے کام سرانجام دیتے ہیں جو آنے والی نسل کے لیے مشعل راہ ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں قحط رجال کا رونا رونا روایت بنتا جا رہا ہے۔ نہ جانے کیوں ہم بھولتے جا رہے ہیں کہ ہمارے ہاں اہل خیر ہمیشہ کثرت میں رہے ہیں۔ ہمارے بدترین دشمن بھی ہمارے لوگوں کی اس خوبی کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاں غربت ہے بھی تو نظر نہیں آتی۔اگر کردار کی غربت نہ ہو تو ہر غربت کا علاج ہو سکتا ہے بے شک ہمارے ہاں آج بھی صاحب کردار لوگ بے شمار ہیں ،معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔طارق نعیم ۔فرشتہ صاحب اور ان جیسے تمام صاحب کردار افراد کو ہمارا سلام۔
٭٭بشکریہ روزنامہ پاکستان ٭٭

کوئی تبصرے نہیں