Page Nav

HIDE

Pages

تازہ ترین:

latest

Ads Place

معروف ماہرِ تعلیم، استاد، ادیب اور مصنف امجد محمود چشتی کی چھٹی تصنیف“فیسنگ ہسٹری ود فیس بک”شائع ہو کر مارکیٹ میں آ گئی ہے۔

 علمی وادبی حلقوں کے مطابق فیس بک جیسے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو کتابی شکل دینا ایک نہایت مشکل اور تخلیقی کام تھا جسے مصنف امجد محمود چشتی نے...

 علمی وادبی حلقوں کے مطابق فیس بک جیسے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو کتابی شکل دینا ایک نہایت مشکل اور تخلیقی کام تھا جسے مصنف امجد محمود چشتی نے اپنی محنت، تحقیق اور فنی مہارت سے ممکن بنا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔


کسووال(نامہ نگار)معروف ماہرِ تعلیم، استاد، ادیب اور مصنف امجد محمود چشتی کی چھٹی تصنیف “فیسنگ ہسٹری ود فیس بک” شائع ہو کر مارکیٹ میں آ گئی ہے، جسے ادبی و علمی حلقوں میں ایک منفرد اور انوکھا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت مختلف ہے جس میں نامور تاریخی، ادبی، مذہبی اور سیاسی شخصیات کو فیس بک کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں وہ مخصوص موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی پوسٹس پر کمنٹس اور جوابات دیتے نظر آتے ہیں، یوں قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا کتابی صفحات میں منتقل ہو گئی ہو۔

 علمی وادبی حلقوں کے مطابق فیس بک جیسے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو کتابی شکل دینا ایک نہایت مشکل اور تخلیقی کام تھا جسے مصنف امجد محمود چشتی نے اپنی محنت، تحقیق اور فنی مہارت سے ممکن بنا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ کتاب کے سرورق، ٹائٹل اور اندر شامل مواد کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ قاری ہر صفحے پر جدت، دلچسپی اور تحقیق کی جھلک محسوس کرتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق امجد محمود چشتی کا تعلق کسووال سے ہے اور وہ اس سے قبل بھی کئی ادبی و تعلیمی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، تاہم ان کی یہ نئی تصنیف ایک جدید اور منفرد تجربہ ہے جس میں پاکستان کی سیاسی، ادبی، مذہبی اور سماجی تاریخ کو ایک نئے اور دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو بالخصوص طلبہ کے لیے معلومات کا خزانہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اہل علم و دانش کے لیے بھی یہ ایک قیمتی اضافہ ہے۔اہل علاقہ، اساتذہ، طلبہ اور ادبی شخصیات نے امجد محمود چشتی کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی پذیرائی کی مستحق ہے۔
 انہوں نے کہا کہ مصنف نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا منفرد کام پیش کیا ہے جو اردو ادب میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔ادبی و سماجی حلقوں نے قارئین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس منفرد کتاب کا مطالعہ ضرور کریں تاکہ وہ اس نئے طرزِ تحریر اور تحقیقی انداز سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی امید ظاہر کی گئی ہے کہ امجد محمود چشتی مستقبل میں بھی اسی طرح کے جدید اور تخلیقی منصوبوں کے ذریعے ادب کی خدمت جاری رکھیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں

ads